ہوم
 
 

ادارے  کی لکھی گئے کتب

مجلہ  دفاع السلام

 
 

آڈیو

JA Content Slide Error: There is not any content in this category

اسلامک  پمفلیٹ

 
 
 
 

اسلامک میسج آرگنائیزیشن

ای میل چھاپیے

اسلامک میسج آرگنائیزیشن

الحمداللہ رب العالمین والصلوةوالسلام علی محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔۔۔امابعد۔۔

اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیائے کرام علیھم السلام ایسے مقدس انسانوں کو انسانیت کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔ اللہ کے ان پیارے پیغمبروں نے لوگوں کی لو مة لائم سے بے پروا ہو کر ان تک اللہ تعالیٰ کا پیغام بلاکم وکاست پہنچایا اور دین کی راہ میں آنے والی تمام مشکلات کوخندہ پیشانی سے برداشت کیا ۔ اللہ کے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام تمام انسانیت تک پہنچانے کی ذمہ داری آپ پر عائد کی گئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

''یَا أَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ أُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وانْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہط وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْکَٰفِرِیْنَ''(المائدہ آیت67)

  ''اے رسول(ﷺ)! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچادیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے حق رسالت ہی ادانہ کیا اور اللہ تعالیٰ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا اور بے شک اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا ''۔

اللہ تعالیٰ فرماتاہے :

''ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہط وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْداً '' (الفتح آیت:28)

'' اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت اور دین حق دے کر مبعوث فرمایا تاکہ وہ اس دینِ حق کو تمام (باطل ) دینوں پر غالب کردے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی گواہی ہی کافی ہے ''۔ نیز ملاحظہ فرمائیں : التوبة آیت:32اور الصف آیت :9۔

سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع میں (یوم النحر کو منٰی میں ) خطبہ دیا اس حدیث میں ہے آپ نے فرمایا:

.......اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ قُلْنَا: نَعَمْ ، قَالَ : اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الغَآئِبَ ، فَاِنَّہ رُبَّ مُبَلَّغٍ یَبْلَغُہ مَنْ ھُوَ اَوْعٰی لَہ کَانَ کَذٰلِکَ (صحیح بخاری: 7078کتاب الفتن باب :٨8 ، مسلم کتاب القسامة والمحاربین باب :9 )

سنو ! کیا میں نے اللہ کا دین تم تک پہنچادیا ؟ ہم نے کہا :جی ہاں ۔ آپ نے دعا فرمائی کہ اے اللہ !تو گواہ رہنا ۔ پھر آپ نے فرمایا: جو لوگ یہاں پر موجود ہیں وہ ان لوگوں تک کہ جو یہاں موجود نہیں ہیں اللہ کا دین پہنچادیں ۔ اس لئے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس شخص کو کوئی بات پہنچائی جاتی ہے تو وہ اس بات کو پہچانے والے سے زیادہ یادرکھتا ہے ۔ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آپ نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا ( یعنی شاہدین نے غائبین تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پہنچادیں ) اور ایک روایت میں ہے کہ امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ۔ (بخاری )

بخاری (4403) کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ کے کلمات تین مرتبہ دہرائے ۔ 

بخاری (5550) کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے اَلَاھَلْ بَلَّغْتُ ؟ کے الفاظ دومرتبہ دہرائے ۔

سیدنا وابصہ بن معبدالجہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجة الوداع میں موجود تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ۔ اس حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا : کیا میں نے تم تک اللہ کا پیغام پہنچادیا ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ۔ پھرآپ نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا پھر فرمایا: اے اللہ !تو گواہ رہنا ۔ سیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم (صحابہء کرام حجة الوداع میں ) حاضر تھے جبکہ تم لوگ غائب تھے اور ہم تمھیں پہنچارہے ہیں جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ (مجمع الزوائد (3/271)

 وقال الھیثمی وراہ ابویعلی ورجالہ ثقات۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ''اے لوگو ! تم میں سے جو یہاں حاضر ہیں وہ غائب لوگوں تک اس دین کو پہنچادیں ۔ سیدنا وابصہ فرماتے ہیں کہ ہم تمھیں پہنچارہے ہیں جیسا کہ ہمیں رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ۔ مجمع الزوائد (1/139)

وقال الھیثمی: رواہ البزار ورجالہ موثقون۔سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 اِنِّیْ مُحَدِّثُکُمُ الْحَدِیْثَ فَلْیُحَدِّثِالْحاضِرُ مِنْکُمُ الْغائِبَ (مجمع الزوائد (1/139) وقال الھیثمی رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ موثقون )

بے شک میں تم سے احادیث بیان کرنے والا ہوں ۔ پس جو لوگ تم میں سے حاضر ہیں وہ غائب تک یہ احادیث پہنچادیں ۔

 اِنِّیْ مُحَدِّثُکُمُ الْحَدِیْثَ فَلْیُحَدِّ ثِ الْحاضِرُ مِنْکُمُ الْغائِبَ (مجمع الزوائد (1/139) وقال الھیثمی رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ موثقون ) بے شک میں تم سے احادیث بیان کرنے والا ہوں ۔ پس جو لوگ تم میں سے حاضر ہیں وہ غائب تک یہ احادیث پہنچادیں ۔

  اس حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناواقف اور بے خبر لوگوں تک پہنچانے کا ذمہ ہر مسلمان پر ہے ۔ اور صحابہء کرام جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے براہ راست اس بات کا حکم دیا تھا تو یہ بات ممکن نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے گھروں میں خاموش ہوکر بیٹھ گئے ہوں گے بلکہ وہ قرآن وحدیث کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لئے یقینا بے قرار ہونگے اورسیدنا وابصہ رضی اللہ عنہ کا طرز عمل اس بات کا عکاس ہے ۔

ایک حدیث میں ہے : سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :

    ''نَضَّرَاللّٰہ ُ امْرأً سَمِعَ مِنَّا حَدِیْثاً فَحَفِظَہ حَتّٰی یُبَلِّغَہ غَیْرَہ ''

اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے حدیث سنی پھر اسے یاد کیا پھر یہاں تک کہ اسے دوسرے لوگوں تک پہنچادیا ۔ (مسند احمد (5/83) ابوداؤد (367) الترمذی (2658) ابن ماجہ (231،230)الصحیحہ (404)

سیدنا جبیر بن مطعم کی ایک حدیث میں اس حدیث کے الفاظ ہیں :

 ''نَضَّرَاللّٰہ عَبْداًسَمِع مَقَالَتیْ فَحَفِظَہَاوَوَعَاھَاوَبَلَّغَہَامَ نْلَمْ یَسْمَعْھَا ''

اللہ تعالیٰ اس بندے کو تروتازہ رکھے کہ جس نے میرا مقالہ(حدیث ) سنا پھر اسے یاد کیا اور اسے دہرایا اور پھر اس شخص تک اس حدیث کو پہنچایا کہ جس نے یہ حدیث نہیں سنی ۔'' (مجمع الزوائد (1/139) وقال الھیثمی : رواہ الطبرانی فی الکبیر وأحمد ۔۔۔۔ورجالہ موثقون )

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت میں ہے :

''تَسْمََعُوْنَ وَیُسْمَعُ مِنْکُمْ وَیُسْمَعُ مِمَّنْ یَسْمَعُ مِنْکُمْ ''(ابوداؤد:3659)

تم احادیث (مجھ سے) سنتے ہو اور تم سے احادیث سنی جائیں گی اور پھر ان لوگوں سے احادیث سنی جائیں گی کہ جنھوں نے تم سے احادیث سنی تھیں ۔ گویا احادیث کا یہ سلسلہء اسناد اسی طرح چلتا رہے گا اور بعد والے لوگ اپنے اگلوں سے احادیث سماعت کرتے رہیں گے ۔امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ''اَلْاِ سْنَادُ مِنَ الدِّ یْنِ وَلَوْ لاَ اَلْاسْنَادُ لَقَالَ مَا شَآ ءَ (رواہ مسلم فی مقدمتہ )اسناد دین میں سے ہیں اور اگر اسناد نہ ہوتیں تو جو شخص چاہتا اور جو کچھ چاہتابیان کردیتا ۔

 محدثین نے احادیث کو ثقہ اور قابل اعتماد محدثین کرام سے حاصل کیا اور اگلوں نے بعد والوں کو سند کے ساتھ احادیث پہنچائیں یہی وجہ ہے کہ بے سند بات کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ آج کوئی یہودی یا عیسائی ایسا نہیں ہے جو اپنے پیغمبر کی کوئی حدیث با سند بیان کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو عنایت فرمایا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے ۔ 

 سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْآیۃ۔ میری طرف سے پہنچادو چاہے ایک ہی آیت ہو ۔ (بخاری : 3461مشکوٰة المصابیح کتاب العلم )

امام عبدالرحمن بن ابی حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ پر موت کا وقت قریب آیا اور ان پر نزع کی حالت قائم ہوگئی تو ان کے ایک شاگرد محمد بن مسلم نے ان سے پوچھاکہ آپ کو مرنے والے کو لاالہٰ الااللہ کی تلقین کرنے کے متعلق معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث یاد ہے ؟ ان کی یہ بات سن کر ابو زرعہ رحمہ اللہ نے اپنا سر اٹھایا اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث کو سندا بیان کیا کہ جس شخص کا آخری کلام لاالٰہ الااللہ ہوگا تو وہ جنت میں داخل ہوگا (اور پھر ان کی روح پرواز کرگئی)گھر میں سے رونے کی آواز بلند ہوگئی ۔ اس شخص کی کہ جو ان سے ملاقات کے لئے آئے تھے ۔(الجرح والتعدیل (1/281 طبع دارالکتب العلمیہ ،بیروت )اس عظیم محدث نے مرتے وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سند کے ساتھ بیان فرمائی اور یہ ان محدثین کا امت مسلمہ پر عظیم احسان ہے ۔

ان احادیث سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ہر مسلم کو قرآن وحدیث کا علم حاصل کرنا ضروری ہے اور پھر اس علم کی اشاعت نہایت ضروری ہے کیونکہ ہر مسلم مبلغ بھی ہے اور دعوت وتبلیغ کی زبردست ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوتی ہے اور پھر جب اس کام کو تنظیمی انداز میں کیا جائے اور علما کی ایک ٹیم اسے سرانجام دینے کے لئے اٹھ کھڑی ہو تو یہ بات سونے پر سہاگے کے مترادف ہوگی اور اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلامک میسج آرگنائیزیشن کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ فاؤنڈیشن کے قیام کا مقصد ایک نئی جماعت کا اضافہ نہیں ہے بلکہ اس کے قیام کے مندرجہ ذیل مقاصد ہیں :

1)قرآن مجید اور صحیح احادیث کی تعلیمات کو عام کرنا اور اپنے کارکنان کو قرآن وحدیث کی تعلیمات سے آراستہ کرنا ۔

2)اپنے عقائد واعمال کو قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کرنا ۔

3)جو عقیدہ وعمل قرآن وحدیث کے خلاف ہوگا اسے علی الاعلان رد کرنا ۔

4)قرآن وحدیث واجماع کی برتری ۔

5)سلف صالحین کے متفقہ فہم کا پرچار۔

6)صحابہء کرام 'تابعین ، تبع تابعین ، محدثین اور تمام ائمہء کرام سے محبت ۔

7)صحیح وحسن روایات سے استدلال اور ضعیف ومردود روایات سے کلی اجتناب ۔

8)اتباع کتاب وسنت کی طرف والہانہ دعوت ۔

9)علمی وتحقیقی مضامین کو انتہائی شائستہ زبان میں شائع کرنا ۔

10)کتاب وسنت کے مخالفین اور فرق باطلہ کا علم وحکمت کے ساتھ بہترین اوربادلائل رد ۔

11)اصول حدیث اور اسماء الرجال کو مدنظر رکھتے ہوئے اشاعت الحدیث ۔

12)دین اسلام یعنی قرآن وسنت کا دفاع۔

13)ایسے تمام اداروں سے تعاون وہم آہنگی اختیار کرنا جو پہلے ہی سے تحفظ حدیث کافریضہ انجام دے رہے ہوں ۔

14)فاؤنڈیشن نے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ بھی قائم کیا ہے جس میں پروفیسر ،ڈاکٹر ز اور ایڈوکیٹس بھی شامل ہیں ۔

15)دفاع حدیث کے علاوہ قادیانت اور تقابل ادیان پر بھی فاؤنڈیشن کام کررہا ہے ۔

ادارہ ہٰذا کی ایک عظیم الشان لائبریری ہے جس میں علوم القرآن وحدیث تفاسیر احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام ماخذات فقہ واصول فقہ فتاوی جات اسماء الرجال پرممبنی تقریبا 5000 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں اور اس کام کے لئے علماء وفضلاء کی ٹیم ہے جو ایک نیٹ ورک کی صورت میں ہمہ وقت تحقیق وتدقیق میں جتی رہتی ہے ۔

الحمداللہ

اسلامک میسج آرگنائیزیشن اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ادارہ ہے جو خالصتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کے دفاع جیسے عظیم کام میں سلف صالحین کے منہج پر مصروف عمل ہے اور دشمنان اسلام (منکرین حدیث ومنکرین ختم نبوت) کے خلاف عِلمی وعَملی وفکری جھاد کررہا ہے تو اس عظیم کام کے لئے آپ بھی اپنا حصہ ڈالیں اورہمارے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلیں ہم سے رابطہ کریں اگر آپ کے ذہن میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جو کچھ شبھات ہیں ہم سے رابطہ کریں ان شاء اللہ ہم ان شبھات کا ضرور بالضرور ازالہ کریں گے ۔

اللہ ہم سے اور آپ سے راضی ہوجائے (آمین )

وما علیناالا لبلٰغ